Home / Ramazan / 3 Important Work Before Ramazan 2018 Start
ramazan-2018

3 Important Work Before Ramazan 2018 Start

3 Important Task Need To Be Done

Every Islamic month is important for us but the month of Ramadan is the most important month for Muslims, Our beloved Prophet Hazrat Muhammad P.B.U.H always done 3 things before Ramazan, as you people know the month of Ramazan is the most violable month in Islam, so it is necessary to be prepared to welcome this month. In this article you’ll read the 3 task that always done by Prophet, this is basically an Urdu article so let’s read.

ہر اسلامی مہینہ ہمارے لیے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں. لیکن کچھ ایسے بھی مہئنے ہیں جن کا بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے جو اگلا جو مہینہ ہے رمضان المبارک کا اس میں ہمارے لیے اور آسانیاں ہونگی. تو ہمارے پیارے نبی ﷺ رمضان سے پیلے تین کام کیا کیا کرتے تھے وہ تین کام کونسے ہیں آپ ﷺ نے رمضان کے استقبال کے لیے بہت زبردست تیاری کی. اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ کوئی معمولی مہمان نہیں ہے. ممکن ہے کے ہم رمضان کے لیے جنڈیاں لگانا شروع کردیں. لیکن ہمارے پیارے نبی ﷺ کس طرح احترام کرتے تھے. یہ جاننے کے لیے اس اردو کے نیچے آپ ﷺ کونسے ایسے تین کام کرتے تھے اور شبان کے مہینے میں کرنے ہیں. پہلا کام نفلی روزے رکھنے ہیں دوسرا کام رات کو تحجد کی ہمت کرنی ہے اور نمبر تین گناہوں سے بچنا ہے. رمضان خالقِ کائنات کی بیش از بیش رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے. سال بھر غفلت میں بسر کرنے والے ہم جیسے مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ بہت بڑی نعمت ہے. اس میں بندوں کا ربّ سے تعلق پھر جڑ جاتا ہے. ایمان پھر تازہ ہوجاتا ہے. روحانی بیٹریاں چارج ہوجاتی ہیں. اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں روزوں کے علاوہ دو باتوں کا مزید اضافہ ہوجاتا تھا: ایک یہ کہ قرآن کریم کی تلاوت کی مقدار بڑھ جاتی تھی. حضرت جبرائیلؑ روزانہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت تک نازل شدہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے. دوسرا یہ کہ اس کے ساتھ سخاوت بھی بڑھ جایا کرتی تھی جس کایہ عالم ہوتا تھا جیسے تیزہوا چل پڑے.‘‘ (مشکوٰۃ) روزہ کھانے پینے اور دیگر خواہشات پر قابوپانے کا ذریعہ ہے. یہ انسان میں ایسا ملکہ پیدا کرتا ہے کہ وہ تھوڑی سی ہمت سے کام لے کر پور اسال اپنے نفس کو ان گناہوں سے بھی باز رکھ سکتا ہے جو دن رات ہر وقت حرام ہیں. اسی لیے ارشادِ باری ہے کہ روزے تم پر اس لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم متقی بن جائو. صوفیائے کرام روزے کے 3 درجات بیان کرتے ہیں: (1) روزے کی پابندی قبول کرکے کھانے پینے اور دیگر خواہشات پوری کرنے سے خود کو روکنا، مگر دیگر جائز و ناجائز کاموں کی تمیز نہ کرنا. یہ اصطلاحی روزہ ضرور ہے جس سے فرض ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے، لیکن روزے کا مقصد پورا نہیں ہوتا. (2) روزہ کی حالت میں زبان، کان، آنکھ، ہاتھ اور پائوں وغیرہ سے کوئی بھی گناہ نہ ہونے دینا. اسی سے قرآن کے مقصدِصوم کی تکمیل ہوتی ہے. (3) دل اور دماغ کا بھی روزہ ہوکہ اللہ تعالیٰ، آخرت اور قبر و حشر کے سوا کسی چیز کا خیال بھی نہ آنے پائے. یہ روزہ اللہ کے مقرب بندوں کو ہی نصیب ہوتا ہے. روزے کا مقصد نفس کی اصلاح ہے. اسی لیے روزے کو گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال کہا گیا ہے. روزہ دار کو لڑنے جھگڑے، غصہ کرنے، بدزبانی اور جھوٹ سے منع فرمایا گیا ہے. فرمانِ نبوی ہے: ’’اگر تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ اپنی زبان سے کوئی فحش بات نہ کہے اور جاہلوں جیسا کوئی کام نہ کرے. اگر اس سے کوئی لڑے یا گالی دے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں. ‘‘(مشکوٰۃ) ایک اور حدیث میں ہے: ’’جب ایک آدمی روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بولتا ہے اور دھوکہ فریب سے باز نہیں آتا تو خدا کوکوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا پیاسا رہے. ‘‘(مشکوٰۃ) اگر شرائط و آدب کالحاظ رکھاجائے تو روزے سے نہ صرف انفرادی طورپر محنت، ضبط وتحمل، بردباری اوررحم کی صفات پیدا ہوتی ہیں، بلکہ پورے معاشرے میں احتساب کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے. غریبوں سے ہمدردی اور مفلسوں کی بھوک کا احساس جاگ اُٹھتا ہے. دنیا کے ہرخطے کے مسلمان دلی کیفیات کے اعتبار سے ایک لڑی میں پرو دیے جاتے ہیں. اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ رمضان کی آمد سے پہلے ہی اس کا اہتمام شروع کردیتے تھے. اس کے فضائل سنے اور سنائے جاتے تھے. حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک خطبہ دیا اور فرمایا: ’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ افگن ہورہا ہے. اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شبِ قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے. اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہِ خداوندی میں کھڑا ہونے (یعنی نماز تراویح پڑھنے) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے (جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ملے گا. یہ صبر کا مہینے ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کرایا تو اس کے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے. ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ’’یارسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا (تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے؟)‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرادے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے ارشاد فرمایا کہ) اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلادے اس کو اللہ میرے حوض (یعنی کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تا آنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا… (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتشِ دوزخ سے آزادی ہے. (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کردے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے دے گا.‘‘ (شعب الایمان للبیہقی) قارئین! رمضانِ مبارک گناہوں کی معافی کا مہینہ ہے. فرمان نبوی ہے: ’’جس نے رمضانِ مبارک کے دوران دن کے وقت ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ روزے رکھے اور راتوں کو ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ تراویح اور تہجد و نوافل کی صورت میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے یں.‘‘(مشکوٰۃ) اللہ والوں نے گناہوں کی معافی اور توبہ کی قبولیت کی علامت یہ بتائی ہے کہ توبہ سے زندگی میں عملی تبدیلی آجائے. خدا کرے کہ یہ رمضان مبارک ہماری زندگیوں میں سچی توبہ اورحقیقی تبدیلیوں کاذریعہ بن جائے. اس کے لیے ابھی سے عزم کریں اورکمر کس لیں. اس ہمت، محنت اورقربانی کا انعام بھی اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا رکھا ہے، کیونکہ روزہ صرف اللہ ہی کے لیے رکھا جاتا ہے اوراسی کافرمان ہے کہ ا س کا انعام بھی وہ خود ہی دے گا. آئیے! ان انعامات کووصول کرنے کے لیے خود کو فارغ کریں اورجھولیاں پھیلاکر رب کے در پر پڑ جائیں.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

CommentLuv badge